سنگ[1]
معنی
١ - پتھر۔ دل تو پھر دل ہے ٹوٹتا ہے اگر سنگ سے بھی نکلتی ہے آواز ( ١٩٥٧ء، نبضِ دوراں، ٢٩٤ ) ٢ - چکچکی جس کو نوحہ پڑھنے والے باقاعدہ بجاتے ہیں۔ اُٹھتے ہی تیرے دگرگوں ہو گیا رنگ نشاط جام خالی میکدے میں سنگ ماتم خانہ تھا ( ١٨٤٦ء، آتش، کلیات، ١٨٨ ) ٣ - [ مجازا ] وزن، بوجھ، گرانی۔ "بہت بڑا نگینہ اور رنگ ڈھنگ، سنگ سے درست۔ ( ١٩٢٤ء، خونی راز، ٧٦ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم ہے۔ اردو میں بطور اسم ہی مستعمل ہے اور سب سے پہلے ١٦٠٩ء کو "قطب مشتری" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٣ - [ مجازا ] وزن، بوجھ، گرانی۔ "بہت بڑا نگینہ اور رنگ ڈھنگ، سنگ سے درست۔ ( ١٩٢٤ء، خونی راز، ٧٦ )